لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

پلاسٹک بیگز ماحولیاتی آلودگی کا سبب قرار، عدالت نے صوبے بھر میں اس کا استعمال روکنے پر سختی سے عمل کرانے کے احکامات بھی جاری کردیے

7

لاہور (عوامی فیصلہ نیوز ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔پنجاب میں پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولی تھین بیگز ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔ جس پرعدالت نے پنجاب بھر میں پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کا استعمال روکنے پر سختی سے عمل کرانے کے احکامات بھی جاری کردیے۔

اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور سندھ میں بھی پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

محکمہ ماحولیات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پر اگر بر وقت قابو نہ پایا گیا تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہو ں گے ، حکومت کی طرف سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے کی جانے والی کاو شوں میں ہر فرد نہ صرف حصہ لے بلکہ اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنا مثبت کر دار ادا کرے ، ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا عصر وقت کا تقا ضا ہے ،

پولی تھین کے لفافو ں کے غلط استعمال کو روکنا،پولی تھین لفافوں کے بڑھتے ہو ئے رجحانات کے دیگر عوامل پر قابو پانا وقت کی ضرورت ہے ، پولی تھین کے لفافے مختلف اقسام کا زہریلہ کمیکل چھوڑتے ہیں جو کہ ما حول کو نتہائی آلو دہ کر نے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ انسانوں ، جانوروں اورجانداروں کیلئے بھی انتہائی خطر ناک ہے ،

ان پلاسٹک بیگز کی تلفی، زمینی پانی کیلئے بھی نقصان دہ ہے ہو جوہم سب روزانہ بنیا د کی استعمال کر رہے ہیں ، ڈسٹرکٹ آفسیر ماحولیات بابر خان کا مزید کہنا تھا کہ کہ پولی تھین بیگز کی پیداوار کو کنٹرول کرنے،ان کے بنانے،خرید و فروخت اوراستعمال کو کنٹرول کرنے کے سلسلہ میں مو ثر اقدامات کیے جا رہے ہیں

اور اس سلسلہ میں عوام کو شعوروآگاہی دینے کیلئے مہم کا آغاز کیا جائے گا،اس مہم میں سول سو سائٹی ،معاشرہ کے صاحب الرائے لوگ،عوام کی کثیر تعداد کی بھی مدعو کیا جائے گا، عوام کے تعاون کے بغیر آلودگی کے مسائل کو کنٹرول کرنے اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے مطلوبہ نتائج اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک عوام بامقصد ہو کر اس مہم میں شرکت نہ کریں ۔