سانحہ مچھ کے شہداء کی ہزارہ قبرستان میں تدفین کردی گئی

نماز جنازہ میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی ، معاون خصوصی زلفی بخاری اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور صوبائی وزراء نے بھی شرکت کی جب کہ عوام کی کثیر تعداد بھی نماہ جنازہ میں شریک تھی

11

سانحہ مچھ کے شہداء کی نماز جنازہ امام بارگاہ ولی عصر میں ادا کرنے کے بعد ہزارہ قبرستان میں شہداء کی تدفین کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی ، وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی شرکت کی ، صوبائی حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ ضیاء لانگو ، سلیم کھوسہ اور مبین خلجی بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے جب کہ عوام کی کثیر تعداد نے بھی شہداء کی نماز جنازہ ادا کی جس کے شہداء کی کوئٹہ کے ہزارہ ٹاون قبرستان میں تدفین کردی گئی۔

یہاں واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کام کرنے والے کان کنوں کوگزشتہ ہفتے اور اتوار کی رات گیشتری کی کوئلہ فیلڈمیں مسلح افراد نے قتل کر دیا تھا جس کے بعد ہزارہ برادری کی طرف سے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا بھی دیا گیا ، 6 روز سے احتجاج کرنے والی ہزارہ برادری نے گزشتہ رات اس وقت دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا جب حکومت نے مچھ میں کان کنوں کے قتل کے واقعے کیخلاف احتجاجی متاثرین کے تمام مطالبات منظور کرلیے جس کے ساتھ ہی لواحقین نے میتوں کی تدفین کی اجازت دے دی تھی ، اس موقع پر شہداء ایکشن کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرلیے ہیں جس کے بعد شہداء ایکشن کمیٹی اور لواحقین نے تمام شہداء کی میتوں کی تدفین کا فیصلہ کیا ، شہداء ایکشن کمیٹی کے رکن کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر علی زیدی کا خصوصی شکریہ ادا کیا ،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزراء کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری بات مانی، ہمارے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں ۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن وفاقی وزیر بحری امور سید علی زیدی نے کہا کہ آج تک حکومتوں نے وعدے کئے، تحریری معاہدہ کسی نے نہیں کیا، ہم نے شہداء ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ، ذمہ داران افسران کو ہٹا دیا گیا ، مچھ واقعے پر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی اس کے ساتھ ہی ہائی لیول کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، وزیر داخلہ بلوچستان ،2اراکین بلوچستان اسمبلی ، 2 سینئر افسران کمیشن کا حصہ ہوں گے، جب کہ ڈی آئی جی رینک کا پولیس آفیسر کمیشن کا حصہ ہو گا، کمیشن ہر ماہ ملاقات کرے گا اور کارکردگی کا جائزہ لے گا ، وفاقی اور صوبائی ادارے بلوچستان کے سیکیورٹی پلان کا ازسر نو جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی ، شہدا کے وارثا کو بلوچستان حکومت نوکری فراہم کرے گی، وزارت بحری امور شہدا کے بچوں کی تعلیم کا خرچ ادا کرے گی اور یہ اعلان میں اپنی وزارت کی طرف سے کررہا ہوں۔