یکطرفہ خیر سگالی کے منفی اثرات تحریر : شاہد ندیم احمد

4,891

بھارتی حکومت نے سوا تین سال پہلے بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے اپنی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس اور بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت سے سنائی جانے والی سزائے موت منسوخ اورملک میں دہشت گردی، علیحدگی و قتل و غارت گری کی کارروائیوں کو منظم کرنے جیسے تمام الزامات سے بری کرانے کے لئے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کیا تھا، جبکہ بھارتی جاسوس کے خلاف تمام الزامات کے نہ صرف ٹھوس ثبوت و شواہد موجود تھے، بلکہ اُس نے مکمل اعتراف بھی کر لیا تھا۔ مودی سرکار عالمی عدالت میں حقائق کو مسخ کر کے اپنی ریاستی دہشت گردی کا وہ داغ دھونا چاہتی تھی جو کلبھوشن یادیو کے انکشافات سے اس کے چہرے پر بتمام و کمال چسپاں ہو گیا تھا۔ عالمی عدالت کے فیصلے سے واضح ہے کہ اپنی اس کوشش میں مودی حکومت بری طرح ناکام رہی ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے میں کلبھوشن کی بریت و رہائی اور اسے بھارت کے حوالے کیے جانے کی استدعا مکمل طور پر مسترد کردی گئی، تاہم عدالت نے ویانا کنونشن کا تقاضا قرار دیتے ہوئے قونصلر رسائی اور سزائے موت کے فیصلے پر پاکستان کی سول عدالت میں نظر ثانی کے حوالے سے بھارت کے موقف کو تسلیم کر لیا ہے۔اس فیصلے کے حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کو رہا نہ کرنے اور پاکستان کی تحویل میں رکھے جانے کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی واضح جیت ہے، جبکہ فوجی عدالت کے فیصلے پر سول عدالت میں نظرثانی کے حق پر ہمارا شروع سے موقف رہا کہ ملزم کو اس کا حق حاصل ہے اور عالمی عدالت نے بھی یہی بات کہی ہے۔

لہٰذا نظرثانی اور ازسر نو غور کے حوالے سے کارروائی میں قانون کی عدالت ویانا کنونشن کی شقوں کو پوری طرح مدنظر رکھے گی اور ہمیں عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔ بعض ماہرین قانون کے بقول عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی پابندی لازم نہیں، لیکن اس کے مقابلے میں یہ رائے زیادہ صائب معلوم ہوتی ہے کہ اسے قبول کیا جائے اور سول عدالت کی نظر ثانی کے بعد جو بھی فیصلہ ہو، اس پر عمل درآمد کرکے ثابت کیا جائے کہ پاکستان انصاف کے تقاضوں کو آخری حد تک ملحوظ رکھنے اور بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں کا احترام کرنے والا ملک ہے۔ درحقیقت پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل تھا، دنیا بھر میں اس فیصلے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس فیصلے سے دنیا پر واضح ہوا ہے کہ بھارت اس خطے میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔عالمی عدالت انصاف کے فیصلے نے ثابت کیا ہے کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف پوری تیاری سے مقدمہ لڑے تو اسے کامیابی مل سکتی ہے، کیونکہ بھارتی موقف ہمیشہ جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ بھارت نے ایک بین الاقوامی فورم پر کلبھوشن کو اپنا شہری تسلیم کرلیا،جبکہ اس سے پہلے بھارت کلبھوشن کو بھارتی باشندہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا،دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ کلبھوشن کو بھارتی جاسوس بھی تسلیم کرلیا گیا اور اس کی پاکستانی سرزمین سے گرفتاری یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی پشت پر بھارت ہے،

جہاں تک کلبھوشن تک بھارتی قونصلر کی رسائی دینے کا معاملہ ہے، پاکستان نے پہلے بھی اس سے انکار نہیں کیا، مگر پاکستان کا یہ اصولی موقف رہا کہ بھارت کلبھوشن کے اعترافات کو تسلیم کرے۔بھارت پہلے تو کلبھوشن کو اپنا شہری ماننے سے ہی انکار کرتا رہا اور جب پاکستان نے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے تو کہا گیا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ سے ریٹائر ہوچکا تھا اور جو کچھ بھی کیا گیا،وہ اس کا انفرادی فعل تھا۔ یہ امر قابل تشویش ہے کہ عالمی عدالت نے بھارت کے اس موقف کو تسلیم کرلیا ہے کہ کلبھوشن ریاستی مشن پر نہیں تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے غلطی پر ہونے کے باوجود زبردست سفارتکاری دکھائی اور اپنے خلاف کسی سخت فیصلے سے محفوظ رکھاہے۔ اب یہ پاکستان کی سفارتکاری پر منحصر ہے کہ اس فیصلے کو کس طرح پوری دنیا تک پہنچا کر بھارتی چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ عالمی عدالت نے کلبھوشن کو دی جانے والی موت کی سزا کو ختم تو نہیں کیا، مگر اس کی سزا پر عملدرآمد کو معطل رکھا ہے۔ بھارت سزا کی معطلی کو اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے،بھارتی سرکار کے مطابق ان کی پہلی کوشش کلبھوشن کو بھارتی ریاست کا نمائندہ نہ قرار دلانا اور دوسری کوشش سزائے موت پر فوری عملدرآمد روکواناتھا،بھارت اپنی کوشش میں کامیاب رہا ہے۔ بھارتی سرکار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جیسے ہی کلبھوشن تک بھارتی قونصلر کو رسائی ملی،وہ عالمی عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کردیں گے اور اس میں ان کا ہدف کلبھوشن کی رہائی ہوگی۔


بھارتی دعووں سے قطع نظرپا کستان اب تک بہت کچھ خیر سگالی کے نام پر کرتا رہا ہے،پاکستان میں دراندازی کرنے والے بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کردیا تھا،مگر بھارت نے ا س کا مثبت جواب دینے کے بجائے کہا کہ اگر پاکستان ابھے نندن کو رہا نہیں کرتا تو وہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے، اسی طرح کشمیر سنگھ کو بھی پاکستان نے جاسوس ہونے کے باوجود خیر سگالی کے جذبے کے تحت رہا کیا تھا اور اس نے بھارت پہنچتے ہی میڈیا پر برملا اس امر کا اعتراف کیا کہ وہ بھارت سرکار کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی کرتا رہا تھا۔ پاکستان میں ارباب اختیار کو اب اس امر کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ جذبہ خیر سگالی کا یکطرفہ اظہار کمزوری کے زمرے میں آتا ہے۔ اب تک پاکستان یکطرفہ طور پر ہی جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتا رہا ہے جس کا جواب بھارت نے ایک مرتبہ بھی مثبت پیرائے میں نہیں دیا ہے۔ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی اپنی یکطرفہ خیر سگالی کی پالیسی کو تبدیل کرے اور برابری کی بنیاد پر معاملات کو طے کرنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کو سفارتکاری کے محاذ پر جس طرح بار ہاصورت حال کا سامنا کرنا پڑا، انہیں بہت باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سفارتکاری کا محاذ انتہائی اہم ہے اور پاکستان اس محاذ پر ہر دفعہ بھارت سے شکست کھا جاتا ہے۔