پرائمری اسکولز کے اندر یکساں نصاب لاگو ہو گا

سکولز میں 50 فیصد بچے آئیں گے اور بقیہ بچے اگلے روز آئیں گے،بچوں کے ہوم ورک کے لیے خصوصی ورک شیٹس بنائی گئیں، تعلیمی نقصان کے ازالے کے لیے اقدمات کر رہے ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی گفتگو

33

وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کورونا کے معاملے پر اسکولوں کو ڈس انفیکٹ کیا گیا۔پرائمری ، مڈل، یونیرسٹیز کھولنے جا رہے ہیں۔کورونا میں پہلے 6 اور پھر پونے دو ماہ سکول بند رہے۔چھٹیوں کے ہوم ورک اور ایم سی کیوز پر اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ہر جگہ دیکھا ہے کہ ایس او پیز پر عمل ہو رہا ہے۔

ٹی وی پر تعلیم گھر پروگرام شروع کیا۔پرائمری اسکولز کے اندر یکساں نصاب لاگو ہو گا۔اس بار کسی بھی طالب علم کو امتحانات کے بغیر پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔سکولز میں 50 فیصد بچے آئیں گے اور بقیہ بچے اگلے روز آئیں گے۔ پرائیویٹ سکولز کی رجسٹریشن پہلی مرتبہ آن لائن کی گئیں۔ اسکولز میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرایا گیا، بچوں کے ہوم ورک کے لیے خصوصی ورک شیٹس بنائی گئیں۔

مراد راس نے مزید کہا کہ رولز بنانا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد مشکل ہے۔ تعلیمی نقصان کے ازالے کے لیے اقدمات کر رہے ہیں۔قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا تھا کہ 18 جنوری سے تعلیمی ادارے کھولنے جا رہے ہیں،اگر تعلیمی ادارے دوبارہ بند کرنا پڑے تو فوری کر دیں گے۔وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ 18 جنوری نویں دسویں کی کلاسز کھل جائیں گے۔

کورونا کے دوران تعلیم کا سب سے زیادہ نقصان ہوا،25 سے پہلے پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کلاسیں کھل جائیں گی۔ جب کہ یکم فروری سے یونیورسٹیاں بھی کھول دی جائیں گی۔ایک وقت میں سکول میں 50 فیصد سے زائد نچوں کی بٹھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔مراد راس نے مزید کہا کہ اگر سکولز دوبارہ بند کرنا پڑے تو فوری طور پر بند کر دیں گے۔امتحانات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں امتحانات اگست میں ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ امتحانات مئی میں ہوں۔