شیشہ پینے اور داڑھی منڈھوانے کیخلاف فیصلہ دینے پر سعودی حکومت نے 2 جج معطل کردیے

سعودی عرب کا نظام انصاف قانون سازی ، اصولوں اورفیصلوں پر مبنی ہے اور یہ انفرادی نوعیت کے فیصلوں کو مسترد کرتا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل

11

سعودی عرب کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے شیشہ پینے اور داڑھی منڈھوانے کی ممانعت کا حکم دینے والے دو ججوں کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

 

سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق متنازع فیصلہ دینے والے دونوں ججوں کیخلاف تحقیقات کی جارہی ہیں اور دونوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔

 

معطل کیے جانے والے ججوں نے اپنے فیصلوں میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مردوں کا داڑھی منڈھوانا اور تمباکو شیشہ پینا ممنوع ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ ’’عدالتی کام ادارہ جاتی ہوتا ہے اور اس میں ادارے کے نظام سے متعلق کسی انفرادی رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 

سعودی عرب کا نظام انصاف قانون سازی ، اصولوں اورفیصلوں پر مبنی ہے اور یہ انفرادی نوعیت کے فیصلوں کو مسترد کرتا ہے۔

 

‘‘ واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایک عدالت نے جولائی میں رشوت ستانی، بدعنوانیوں اوراختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق پانچ مقدمات میں نامزد دو ججوں سمیت مختلف ملزموں کو قصور وار قرار دے کر قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائی تھیں۔

 

عدالت نے رشوت لینے پر ایک جج کو چار سال قید اور ایک لاکھ 30 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے ایک مقدمے میں جج کو اپنے عہدے کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے پر چار سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

اس جج کو رشوت دینے والے شہری کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ سعودی عرب کا نظام عدل دنیا بھر میں مشہور ہے ،

 

اور یہاں کی سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے فیصلوں پر نظر بھی رکھتے ہیں اور اگر کوئی جج کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو تو اس کی سرزنش بھی کی جاتی ہے ۔