” جنت کے مسافر ” علی اکمل تصور

یہ کہانی سانحہ A P S پشاور کے پس منظر میں لکھی گئی ۔

103

ان کی تیاری مکمل ہو چکی تھی ۔وہ کوچ کرنے کے لئے تیار کھڑے تھے ۔روانہ ہونے سے پہلے انہیں کسی کا انتظار تھا ۔پھر وہ آیا۔یہ ایک بزرگ صورت آدمی تھا ۔بزرگ سیرت تھا کہ نہیں تھا ۔یہ بات خدا جانے ۔۔۔

 

اس نے ان تمام نوجوانوں کو گلے سے لگایا ۔ان سے پیار کیا اور بولا۔
” جاؤ میرے بچوں ۔۔۔جنت تمہاری منتظر ہے ۔۔۔”
اپنے آقا سے اجازت لینے کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔ایک مقام پر وہ سب ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔یہ ان کے منصوبے کا حصہ تھا ۔اب وہ سب اپنا اپنا راستہ بدل کر آگے بڑھ رہے تھے ۔

 

مگر ان کی منزل ایک ہی تھی۔ان سب کا سفر جاری رہا ۔اور پھر وہ مقررہ وقت پر اس مقام پر پہنچے میں کامیاب ہو گئے ۔جہاں انہیں پہنچنا تھا ۔یہ ایک ویران کھیت تھا ۔وہ کھڑی فصل میں چھپ کر بیٹھ گئے ۔اب انتظار کا مرحلہ شروع ہوا تھا ۔

 

وہ ایک کالی رات تھی ۔موسم سرد تھا ۔ہر گزرتے پل کے ساتھ دھند گہری ہوتی چلی جا رہی تھی ۔وقفے وقفے سے آوارہ کتوں کے رونے کی آوازیں فضا میں بلند ہوتی تھیں اور پھر خاموشی پھیل جاتی تھی ۔سنا ہے کہ کتے شیطان کو دیکھ کر روتے ہیں ۔۔۔

 

کون جانے یہ کون تھے ۔۔۔شیطان ۔۔۔یا کہ پھر شیطان کے چیلے۔۔۔
ان کا دل آپس میں بات چیت کرنے کو چاہ رہا تھا ۔مگر خوف بس اس بات کا تھا کہ کہیں وقت سے پہلے کسی کو ان کا سراغ نا لگ جائے ۔وہ الگ بات تھی کہ وہاں کوئی ان کی باتیں سننے والا موجود نہیں تھا ۔

 

” بہت ٹھنڈ ہے ۔۔۔”
ان میں سے ایک نے سرگوشی کی ۔

 

” ٹھنڈ تو ہے مگر تھوڑا صبر کر لو۔اصل سفر تو صبح شروع ہو گا۔کوئی جہنم کی طرف سفر کرے گا تو کوئی جنت کی طرف ۔۔۔پھر ہم سب کو راحت مل جائے گی ۔۔۔”

 

دوسرے نے جواب دیا ۔اس کی آواز میں انتہا کا عزم موجود تھا ۔

 

” اور جنت کے مسافر تو ہم ہی ہیں ۔۔۔”
تیسرے کی آواز میں مسرت کی لہر موجود تھی ۔

 

” کوئی شک نہیں ہے ۔۔۔”
چوتھے نے اس بات کی تائید کی ۔
” ناموں کی فہرست موجود ہے نا۔۔۔”
سوالیہ انداز میں پوچھا گیا ۔

 

” ہاں۔۔۔جان سے زیادہ اس فہرست کی حفاظت کی ہے۔۔۔”
” اچھی بات ہے ۔۔۔دھیان رہے راستے میں آنے والے ہر فرد کو جہنم رسید کرنا ہے مگر یہ نام۔۔۔ہمارا اصل نشانہ یہ نام ہیں ۔انہیں ہر صورت نشانہ بنانا ہے ۔اگر ہم اپنے مقصد میں ناکام رہے تو ہماری قربانی رائیگاں چلی جائے گی ۔۔۔”

 

” ایسا نہیں ہو گا ۔۔۔”
” کبھی نہیں ۔۔۔”
” کبھی بھی نہیں ۔۔۔”
وہ سب اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے پرعزم تھے۔اور اب وہ صبح ہونے کا انتظار کر رہے تھے اور پھر اپنے لئے جنت کا انتخاب کر کے انہوں نے بے شمار افراد کو جہنم کے سفر پر روانہ کرنا تھا ۔

 

وہ رات انہوں نے آنکھوں میں کاٹ دی۔چاہنے کے باوجود وہ سونا نہیں چاہتے تھے ۔اب تو ایک ہی بار سونا تھا ۔پھر نئی صبح کا آغاز ہوا۔وہ سرکتے ہوئے ایک بلند دیوار کے قریب چلے آئے ۔اب وہ اس دیوار کے دوسری طرف آوازوں کی باز گشت سن رہے تھے ۔ان کی نظریں اپنی اپنی گھڑی کی سوئیوں پر جمی ہوئی تھیں ۔

 

پھر وہ لمحہ آ پہنچا ۔جب انہیں اپنی منزل کی طرف پیش رفت کرنا تھی۔وہ جدید اسلحہ سے لیس تھے ۔ان کے پاس سیڑھی بھی موجود تھی ۔ایک مقامی سہولت کار نے ان کی مدد کی تھی ۔انہوں نے سیڑھی دیوار کے ساتھ لگائی ۔اور پھر ایک کے بعد ایک وہ دیوار کے دوسری طرف کود گئے ۔یہ نام کے مسلمان تھے ۔

 

لڑنے کی تربیت انہوں نے دشمن ملک سے حاصل کی تھی ۔اور وہ یہاں سکول کے معصوم اور نہتے بچوں پر حملہ کرنے آئے تھے ۔وہ دہشت گردی کی بدترین تاریخ رقم کرنے والے تھے ۔سکول کے اندر داخل ہوتے ہی ان کے ہاتھوں میں موجود اسلحہ آگ اگلنے لگا۔قیامت آنے سے پہلے قیامت برپا ہو چکی تھی ۔

 

انہوں نے اپنے راستے میں آنے والی ہر کمزور رکاوٹ کو تنکے کی مانند اڑا دیا ۔جلد ہی انہوں نے اس سکول کے مرکزی ھال کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔یہاں ایک تقریب جاری تھی۔بچوں کی کثیر تعداد اس ھال میں موجود تھی ۔اب وہ سب محصور ہو کر رہ گئے تھے ۔

 

برستی گولیوں میں اپنے اساتذہ کی گرتی لاشیں دیکھ کر وہ سہم گئے تھے ۔اب ان میں سے ایک نے اپنے پاس موجود ناموں کی فہرست نکال لی۔تمام بچے قطار میں کھڑے تھے ۔پھر ایک دہشت گرد اپنے ہاتھ میں ریوالور تھامے آگے بڑھا۔
” نام کیا ہے ۔۔۔؟”

 

اس نے ایک بچے سے پوچھا ۔

” عامر شیراز۔۔۔”
بچے نے جواب دیا ۔
” باپ کا نام۔۔۔؟”
دوسرا سوال پوچھا گیا ۔

 

” میجر شیراز۔۔۔”
پھر ایک گولی چلی ۔بچے کے سر میں سے خون کا فورا ابل پڑا۔اس بچے کا نام ان کے پاس موجود ناموں کی فہرست میں موجود تھا ۔پاک فوج میں تعینات آفیسرز کے بچوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا تھا ۔اب بس ایک نام باقی تھا ۔” فدا حسین ۔۔۔”

 

دہشت گردوں کو اس بچے کی تلاش تھی۔فدا قطار کے آخر میں کھڑا تھا ۔اس کی نظروں کے سامنے اس کے دوستوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔وہ سمجھ چکا تھا کہ یہاں ناموں کی بنیاد پر لاشیں گرائی جا رہی ہیں ۔

 

” اک میری قربانی سے شاید میرے دوستو کی جان بچ جائے ۔۔۔” اس کی سوچ معصوم تھی ۔۔۔پاکیزہ تھی۔۔۔
” کہاں ہے فدا حسین ۔۔۔اک فوجی کا بیٹا ڈر گیا ۔۔۔”

 

اس کا نام پکارا جا رہا تھا ۔
” میں ہوں فدا حسین ۔۔۔”
وہ سامنے آ گیا ۔

 

” اور ہم ڈرنے والے نہیں ہے ۔۔۔ڈرنا تو تم لوگوں کو ہے ۔یہ ڈر ہی ہے کہ جو تم لوگوں نے بچوں پر حملہ کیا ہے ۔یہ ڈر ہی ہے کہ جو تم لوگوں نے مکار بھیڑیوں کی مانند چھپ کر وار کیا ہے ۔

 

اور سنو۔۔۔تم لوگ یہاں سے نکل نہیں پاؤ گے ۔۔۔۔وہ آرہے ہیں ۔اگر تم لوگوں کے پاس ہمارے لئے ایک ایک گولی موجود ہے تو ان کے پاس تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک ایک سو گولی موجود ہے ۔۔۔”

 

فدا بغیر کسی خوف کے انہیں للکار رہا تھا ۔پھر اس کی بات کا جواب بات سے نہیں ۔۔۔گولی سے دیا گیا ۔درد کی تیز لہر کے ساتھ وہ فرش پر گر پڑا ۔پھر فوراً ہی اسے اپنے وجود میں ہلکے پن کا احساس ہوا ۔وہ ٹھوس جسم کی قید سے آزاد ہو چکا تھا ۔یہ احساس اس کے لئے بالکل نیا تھا۔اب وہ آسمان کی طرف بلند ہو رہا تھا ۔

 

اس نے اوپر کی طرف دیکھا ۔اسے اپنے تمام دوست نورانی ہیولے کی صورت نظر آ رہے تھے ۔اس نے نیچے کی طرف دیکھا ۔اس کے مزید دوست اس کے پیچھے آ رہے تھے ۔فنا سے بقا کی طرف سفر شروع ہو چکا تھا ۔

 

پھر اس نے ایک عجیب منظر دیکھا ۔وہ تمام دہشت گرد بھی نیچے سے اوپر کی طرف بلند ہو رہے تھے ۔مگر اس حالت میں کہ ان کے چہرے سیاہ پڑ چکے تھے ۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے غیر مرئی طاقتوں نے ان کی مشکیں کس رکھی ہوں۔وہ تکلیف کی شدت سے چلا رہے تھے ۔

 

فدا حسین پرواز کرتے ہوئے ان کے قریب پہنچا ۔
” کیا ہوا۔۔۔؟ ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔”

 

” ہم تو برباد ہو گئے ۔ہمارے آقاؤں نے تو ہمیں جنت تک جانے کا راستہ دکھایا تھا ۔مگر غفلت میں ہم دوزخ کی آگ کے ساتھ سودا کر بیٹھے۔ خسارہ تو ہم جیسوں کے لئے تھا ۔غفلت میں ہم خود کو ہلاکت میں ڈال بیٹھے۔۔۔”
تکلیف کی شدت سے وہ چیخ رہے تھے ۔چلا رہے تھے ۔

 

” سنو۔۔۔ غور سے سنو۔۔۔”

فدا حسین بولا۔

 

” جنت معصوموں کے لئے ہے۔ظالموں کو جنت نا کبھی ملی ہے اور نا ہی کبھی ملے گی ۔۔۔”
فدا حسین اپنے دوستو کے پاس واپس لوٹ آیا ۔سفر جاری تھا ۔ظالموں کا دوزخ کی طرف ۔۔۔معصوموں کا جنت کی طرف ۔۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی سانحہ A P S پشاور کے پس منظر میں لکھی گئی ۔