ٹرمپ بڑی مشکل میں پھنس گئے،ایوان نمائندگان نے مواخذے کی اجازت دے دی

232 ارکان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کے اجازت نامے پر دستخط کر دیے

11

ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کا وہ بدقسمت حکمران ثابت ہوا ہے کہ جس کے دور میں اتنے پھڈے رقم ہوئے ہیں کہ یہ سہرا کسی اور امریکی حکمران کے سر نہیں سج سکا۔کیپیٹل کے واقعہ کے بعد سے تو جیسے ٹرمپ کے لیے نینسی پلوسی کی شکل میں مصیبت کا پہاڑ کھڑا ہو گیا جو بازو چھوڑتی اور ٹانگ پکڑ لیتی ہے اور ٹانگ چھوڑے تو گلا پکڑ لے۔

یہ نینسی پلوسی ہی ہیں جس نے پہلے25ویں ترمیم کے ذریعے ٹرمپ کو چلتا کرنے کی کوشش کی اور وہاں ناکامی کی صورت میں مواخذے کا کٹا کھولااور اس کٹے کے ذریعے ٹرمپ کو ”کلے“کے ساتھ باندھنے کا پوارا بندوبست بھی کر لیا ہے کیونکہ پہلی کوشش میں تو اسے کامیابی حاصل ہو گئی ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعداب وہ کیپٹل ہل مظاہرے پر اب سینیٹ میں ٹرائل کا سامنا کریں گے۔

صدرٹرمپ کے مواخذے کے حق میں 232اورمخالفت میں 197ارکان نے ووٹ دیا، ایوان نمائندگان میں قرارداد منظوری کے بعد مواخذے کا معاملہ سینیٹ میں جائے گا، لہٰذاٹرمپ کیپٹل ہل مظاہرے پر اب سینیٹ میں ٹرائل کا سامنا کریں گے۔

ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جن کا دو بار مواخذہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے اس وقت امریکی پارلیمنٹ کیپٹل ہل پر دھاوا بولا تھا جب جو بائیڈن کو ملنے والے الیکٹورل ووٹس کی توثیق کی جارہی تھی۔

واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین نے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت اگر صدر مملکت کسی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ ہوں تو نائب صدر سمیت کابینہ اکثریت کے تحت صدر کو ہٹانے کا اختیار رکھتی ہے اور اس کے بعد نائب صدر ملک کے صدر کی حیثیت سے اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔

مگر 25ویں ترمیم کے تحر مائیک پنس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں نے ایس اکیاتو پھر امریکی سیاست کی تاریخ میں یہ نیا رواج چل پڑے گا اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں ہونا شروع ہو جائیں گی۔لہٰذا اس ناکامی کے بعد نینسی پلوسی نے مواخذے کی تحریک شروع کی تھی ارو جس کی ووٹنگ آج ہوئی ارو ممبران نے ٹرمپ کے مواخذے کی اجازت دے دی ہے جس کی کارروائی اب شروع ہو گی ارو ٹرمپ کا مشکل وقت اب شروع ہوا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ 20جنوری کو امریکہ کے نئے صدر کا حلف جوبائیڈن نے اٹھانا ہے اس کے حوالے سے دونلڈ ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہوئے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے ہو گی اور انہوں نے حلف برداری کی تقریب میں اپنی موجودگی کے حوالے سے بی شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں کہ شاید وہ موجود نہیں ہوں گے۔تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ نینسی پلوسی کی مواخذے کی تگ و دو کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔