وٹس ایپ صارفین کواپنی نئی پالیسیوں کے متعلق اسٹیٹس کے لگا کر بھی آگاہ کرے گا

کمپنی نے صارفین کو نئی اپ ڈیٹ اور سوالوں کے جوابات کے لیے اسٹیٹس دینے کا فیچر متعارف کروادیا

25

انٹرنیٹ کے ذریعے پیغام رسانی کی مقبول ترین ایپلی کیشن واٹس ایپ صارفین کواپنی نئی پالیسیوں کے متعلق اسٹیٹس کے لگا کر بھی آگاہ کرے گا. واٹس ایپ بھی اسٹیٹس دے گا اور صارفین سے اپنی پالیسی شیئر کرے گا کمپنی نے صارفین کو نئی اپ ڈیٹ اور سوالوں کے جوابات کے لیے اسٹیٹس دینے کا فیچر شروع کیا ہے.
کمپنی نے پہلے اسٹیٹس اسٹوری میں صارفین کو ان کی پرائیوسی کا یقین دلایا ہے واٹس ایپ کو پچھلے کئی دنوں سے نئی پالیسی کے تحت تنقید کا سامنا ہے نئی پالیسی میں واٹس ایپ کو حقیقی معنوں میں فیس بک کا حصہ بنائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد فیس واٹس ایپ کا ڈیٹا استعمال کرنے کا اہل ہو گا.
مزیدبرآں واٹس ایپ کی جانب سے ویب ورژن اور ڈیسک ٹاپ ایپ پر وائس اور ویڈیو کال کی آزمائش بھی کی جا رہی ہے یہ فیچر بیٹا ورژن میں صارافین کو دستیاب ہے فیچر میں جب واٹس ایپ ویب پر کال کی جائے گی تو ایک پوپ اپ ونڈو نظر آئے گی جس پر کالر کا نام، پروفائل کی تصویر اور کال، ویڈیو/آڈیو اور میوٹ بٹنز ہوں گے.

قبل ازیں واٹس ایپ نے ایک اور فیچر متعارف کرایا تھا جس کے ذریعے صارفین اب آن لائن چیزیں منگوا سکتے ہیں رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے نئے فیچر سے کاروباری افراد اور عام صارفین کو فائدہ ہو گا صارفین کیٹلاگ دیکھنے کے بعد وہاں موجود اپنی پسندیدہ اشیا آرڈر کرسکیں گے. یاد رہے کہ وٹس اپ نے اپنی پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے اپنے صارفین 8 فروری تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اسے قبول کریں ورنہ اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا جس کے بعد وٹس کے صارفین کی بڑی تعداد اس کی مدمقابل ایپس پر چلی گئی تھی کمپنی نے امریکا اور یورپ کو نئی پالیسی میں شامل نہیں کیا تھا اس امتیازی سلوک پر بھی کمپنی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا.
وٹس اپ کے پالیسی میں تبدیلی کے اعلان اور صارفین کی بڑی تعداد کے دوسری اپیلی کیشنزپر منتقل ہونے سے کمپنی کو بڑا جھٹکا پہنچا تھا جہاں مارکیٹ میں وٹس اپ کے شیئرزکی قیمت گر گئی تھی وہیں اس کی مدمقابل دو کمپنیوں ”سنگل“ اور ”ٹیلی گرام“کے شیئرزکی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھاجس کے بعد سے وٹس اپ مختلف وضاحتیں جاری کررہی ہے مگر اس کے صارفین جیسے کمپنی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور وہ تیزی سے دوسری اپیلی کیشنزپر منتقل ہورہے ہیں.
واٹس ایپ نے صارفین کے لیے اپنی اپڈیٹ پالیسی کے نوٹیفیکیشنز اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں قسم کے موبائل صارفین کو بھیجے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا ناصرف استعمال کرے گا بلکہ اسے فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا پالیسی کے مطابق واٹس ایپ سروس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی دوسرے بزنس کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں تو اس کی تمام معلومات کمپنی کے پاس پہنچ جاتی ہیں جس کو فیس بک کی زیرملکیت دیگر ایپلیکیشنز سے شیئر کیا جاتا ہے.
واٹس ایپ کی جانب سے جاری نئی پالیسی کے مطابق ادارے کو اپنی مارکیٹنگ، سپورٹ، تبدیلیاں اور سروسز کو بہتر بنانے کے لیے صارفین کی معلومات درکار ہیں، جو نئی پالیسی کو قبول کیے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتیں واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق موبائل کی معلومات بھی حاصل کر رہا ہے جن میں بیٹری لیول، ایپ ورڑن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات شامل ہیں. صارفین کے ردعمل کے بعد وٹس نے کئی وضاحتیں جاری کرکے صارفین کو یقین دہانی کروانے کی کوشش کی تھی کہ ان کی ذاتی معلومات پر مبنی پرائیوسی پالیسی پر کوئی سجھوتہ نہیں کیا جائے گا تاہم صارفین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں وٹس اپ کو کافی وقت لگے گا.