خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں سردیوں کی چھٹیاں کم کردی گئیں

صوبے کے پہاڑی علاقوں کے اسکولوں میں سردیوں کی تعطیلات 28 فروری سے کم کرکے 31 جنوری تک کردی گئیں

15

خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے سرکاری اورنجی اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں کم کردیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبے کے پہاڑی علاقوں کے اسکولوں میں سردیوں کی تعطیلات 28 فروری سے کم کرکے 31 جنوری تک کردی ہیں ، صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ عالمی وباء کورونا وائرس کے پیش نظرہونے والی مستقل چھٹیوں کی وجہ سے کیا گیا کیوں کہ پہلے ہی تعلیمی اداروں کی طویل عرصے تک بندش کی وجہ سے طالب علموں کا بے پناہ تعلیمی نقصان ہوچکا ہے ، تعطیلات کم کرنے کا مقصد بچوں کو مزید تعلیمی نقصان سے بچانا ہے جب کہ عام طورپر صوبہ خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید سردی کے باعث وہاں ہرسال یہ تعطیلات 24 دسمبرسے 28 یا 29 فروری تک ہوتی ہیں۔

 

یہاں واض رہے کہ ملک کے دیگر علاقوں میں کورونا وباء اور سردیوں کی چھٹیوں کے باعث بند تعلیمی اداروں کو 18جنوری سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس ضمن میں وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ 18 جنوری کو نویں، دسویں گیارہویں کے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے، 25 جنوری سے پرائمری سے آٹھویں تک کلاسیں شروع ہوں گی،تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا گیا،11 جنوری سے آن لائن لرننگ ہو سکتی ہے،بورڈ امتحانات مئی جون میں ہوں گے، یکم فروری سے ہائیر ایجوکیشن کے ادارے کھول دئیے جائیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے جامعات اور دیگر 14 یا 15جنوری کو صحت کی صورتحال کا دوبارہ معاملے کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوروبا وبا کتنے کنٹرول میں ہے، گزشتہ سال پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ہرشے تبدیل ہوگئی ، 2020 کا سال دنیا بھر کےلیے مشکل سال رہا ، تعلیمی ادارے ، دفاتر ، صنعتیں اور مارکیٹیں بندرہیں ، کورونا کے باعث اسکول حاضری کے بجائے آن لائن نظام پر جانا پڑا ، کورونا کے باعث بہت سارے پیارے بھی ہم سے بچھڑ گئے لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود یکساں نصاب تعلیم پر کام جاری ہے۔