سکون کے متلاشی تحریر ۔۔۔۔ممتاز غزنی

Writing for peace ... Mumtaz Ghazni

32

عمر فاروق عارفی صاحب میرے دوست ہیں اور دو کتابوں کے مصنف ہیں ان کی پہلی کتاب "جنت میں گزرے چند دن” وادی نیلم کا سفر نامہ ہے جو ایک بہترین اور شاہکار کتاب ہے اس کو پڑھنے والا تخیل میں وادی نیلم گھوم آتا ہے۔

 

 

 

یہ سفر نامہ وادی نیلم کے حوالے سے ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

 

 

چند ہی دن پہلے عمر فاروق عارفی کی دوسری کتاب "سکون کے متلاشی” منظر عام پر آئی جو وادی ناران کاغان پر لکھا گیا ایک دلچسپ سفر نامہ ہے۔

 

 

 

عمر فاروق عارفی اور ان کے دوستوں کا سیاحتی گروپ ہے جس کا نام MLG (ماؤنٹین لور گروپ)ہے

 

 

 

اس گروپ کے متوالے سرسبز پہاڑوں کے دیوانے،جھیلوں اور آ بشاروں کےعاشق،خوبصورت اور دلکش وادیوں کے رسیا ہیں۔یہ باقاعدہ پوری منصوبہ بندی کر کے ہرسال کسی وادی کی مہم جوئی کرتے ہیں اور پھر عمر فاروق عارفی اس سب کو الفاظ کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اتارتے ہیں۔

 

 

 

ان دونوں سفر ناموں کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں آپ پڑھتے ہوئے تخیل میں ان وادیوں کی سیر کریں گے وہاں اگر آپ عملاً ان وادیوں میں جانا چاہیں تو یہ دونوں سفرنامے آپ کے لیے رہبر و راہنما ثابت ہوں گے۔

 

 

 

سکون کے متلاشی سفر نامہ پہلے والے سفر نامے سے کہیں گنا زیادہ دلچسپ اور معلوماتی ہے ناران ، کاغان ویلی کے بارے میں صرف ایک سفرنامہ ہی نہیں بلکہ مکمل ٹور گائیڈ ہے

 

 

 

اس میں آپکو بالاکوٹ سے لیکر بیسل تک کے ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز کے فون نمبر بھی ملیں گےپاکستان کے تمام بڑے سے شہروں سے مانسہرہ اور بالاکوٹ تک کی ٹرانسپورٹ کا شیڈول اور کرایہ کی تفصیل پڑھنے کو بھی ملے گی

 

 

 

جو لوگ مانسہرہ یا بالاکوٹ سے آگے لوکل سفر کرنا چاہیں تو لوکل ٹرانسپورٹ کے بارے مکمل معلومات بمعہ فون نمبر ملے گی شہدا کی سرزمین بالاکوٹ کیسی جگہ ہے۔دریائے کنہار کیسا ہے اور اس کے ٹراؤٹ مچھلی کا ذائقہ کیسا ہے۔

 

 

 

شینو کے مقام پر سرکاری فش فارم میں ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کیسے ہوتی ہے۔شاراں جنگل کیسا ہے۔ دودی پت سر جھیل کا ٹریک کیسا ہے۔

 

 

 

اس میں کن کن چیزوں کا خیال رکھنا ہے۔خاص کر منور ویلی کے مناظر کی تفصیل پڑھتے ہوئے آپ حیرت کا بت بن جائیں گے۔
اگر آپ خیمہ لگا کر وہاں رہنا چاہتے ہیں تو اس کا سامان کہاں کہاں سے خرید سکتے اس بارے میں ایک فہرست بمعہ رابطہ نمبرز آپکو پڑھنے کو ملے گی۔

 

 

 

میں وادی نیلم پر عمر فاروقی کا سفر جنت میں گزرے چند دن پڑھتے ہوئے کشمیری ہونے کے ناطے یہ سوچ رہا تھا کہ وادی نیلم پر اتنا بڑا تصنیفی کام مجھے یا اور کسی اور کشمیری کو کرنا چاہیے تھا لیکن شاید ہمیں اپنے وطن کشمیر کی خوبصورتی اور دلکشی کا ابھی تک اندازہ نہیں ہے۔

 

 

 

عمر فاروق عارفی اور ان کے ماؤنٹین لور گروپ کے ساتھیوں کی ایک قابل ستائش بات یہ کہ یہ جہاں جاتے ہیں وہاں صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

 

 

 

صرف اپنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کا کیا دھرا چن کر بڑے شاپر میں ڈال کر لے آتے ہیں اور کسی مناسب جگہ پھینک دیتے ہیں یا تلف کر دیتے ہیں ان کا یہ عمل صاف اور شفاف سیاحت کے لیے بہت بڑا پیغام ہے۔

 

 

 

یہ دونوں سفر نامے اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے لفظوں کا بہت بڑا خزانہ ہیں اور سیاحت کے شائقین اور سکول کالج یونیورسٹی کے طلباء کے تفریحی دورے کےلیے ٹور گائیڈ بھی ہے

 

 

 

عمر فاروق عارفی صرف سیر سیاحت اور کتابیں ہی نہیں لکھتے بلکہ اورینٹ کمپنی لاہور میں بطور انجنیئر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔