’نواز شریف کو نیا پاسپورٹ جلد مل جائے گا‘ یوسف رضا گیلانی کا دعویٰ

مسلم لیگ ن کے قائد کے پاس ریڈ پاسپورٹ ہے ، حکومت ایسا بیان نہ دے جس ہر عمل نہ ہو سکے ، سابق وزیراعظم کی گفتگو

12

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نواز شریف کو نیا پاسپورٹ جلد مل جائے گا ، حکومت ایسا بیان نہ دے جس ہر عمل نہ ہو سکے۔

 

تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاس ریڈ پاسپورٹ ہے ، جس پر مسلم لیگ ن کے قائد علاج کرانے بیرون ملک گئے ہیں ، پاسپورٹ منسوخ کرنے کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اس لیے حکومت ایسا بیان نہ دے جس ہر عمل نہ ہو سکے۔

 

پیپلزپارٹی کے رہنماء نے کہا کہ پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں موجود تھا وہاں بلاول بھٹو نے کبھی یہ نہیں کہا کہ نوازشریف واپس آئیں ، ہمارا کوئی بیک ڈور چینل نہیں ہے، جو بھی ہوگا عوام کے سامنے ہوگا۔ یہاں واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 16 فروری کو نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 16فروری کو مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا پاسپورٹ کینسل کررہے ہیں ،

 

16فروری کو نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں ہوگی بلکہ وہ منسوخ تصور ہوگا ، آج بھی کہتا ہوں اگر آپ وفا کریں گے تو ہم بھی وفا کریں گے۔

 

بتاتے چلیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے نئی مشکل کھڑی ہوگئی ، نیا پاسپورٹ نہ بننے کی سورت میں مسلم لیگ ن کے قائد کے بے وطن ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا گیا ، میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی وکیل قمر بلال ہاشمی نے بتایا ہے

 

کہ موجودہ پاسپورٹ کی میعاد ختم اور نیا جاری نہ ہونے کی صورت میں سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بے وطن شخص بن جائیں گے اور ایسی صورت میں ان کے پاس مزید 2 آپشنز ہوں گے جن میں سے ایک یہ کہ پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دیں ، لیکن اس کے لیے انہیں ایک طویل عمل سے گزرنا پڑے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم برطانیہ کی وزارت داخلہ کو ایک درخواست بھی دے سکتے ہیں جس میں استدعا کی جائے کہ انہیں برطانیہ میں مستقل قیام کی اجازت دی جائے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ درخواست دینے والا شخص یہ ثابت کرے کہ اس کو اپنے ملک میں جان کا خطرہ لاحق ہے ، اس پر برطانوی قوانین اور قانونی روایات کے تحت نواز شریف کو مستقل قیام کی اجازت مل سکتی ہے۔